انسان کو اخلاق خود اس کے خالق و مالک نے سکھائے ہیں کیوں کہ یہ اسی کا حق تھا کہ وہ انسان جیسی ذی عقل و ذی شعور ہستی کو پیدا کر کے دنیا میں بھیجنے کے بعد اس کو زندگی گزارنے کے طریقے بھی سکھاتا۔ چنانچہ اس نے انسان کی سرشت میں نیکی اور برائی کے رجحانات رکھ دیے پھر اس کی رہنمائی کے لیے کچھ نیک انسانوں (پیغمبروں) کا انتخاب کیا، ان پر وحی کے ذریعے تعلیمات نازل کیں اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان تعلیمات پر خود بھی ایمان لا کر پوری طرح عامل ہو جائیں اور انہیں دیگر انسانوں تک بھی پہنچا دیں۔ انہی تعلیمات کا نام اسلام ہے۔ چنانچہ خدا کے یہ پیغمبر دنیا کے کونے کونے میں پہنچے یا ان کے ماننے والے پہنچے اور وہاں بسنے والے انسانوں کو ان تعلیمات سے روشناس کرایا۔
آج دنیا میں جس مذہب میں بھی یہ تعلیمات جس حد تک بھی پائی جاتی ہیں وہ انہیں پیغمبروں کی یا ان کے ماننے والوں کی پہنچائی ہوئی تعلیمات کی باقیات ہیں اور جس شخص کے اندر بھی جذبہ انسانیت پایا جاتا ہے وہ خداوند عالم کا ودیعت کردہ ہے۔
اسلام کی سب سے آخری کتاب آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل خدا کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی جسے آپ قرآن کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ کتاب ہر قسم کی تحریفات سے پاک ہے۔ یہ آج سے لے کر دنیا کے خاتمے تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے سراسر ہدایت اور روشنی ہے جس پر ایمان لا کر آدمی دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے اور مرنے کے بعد والی زندگی میں بھی سُرخرو ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں ہو سکتا ہے کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں وہ کچھ کامیابیاں حاصل کر لے لیکن آخرت میں وہ خسارے میں رہے گا۔
محمد عزیزالدین خالد
حیدرآباد۔

Disclaimer: The views expressed in this blog post are those of the authors and do not necessarily reflect the views of Jamaat-e-Islami Hind Telangana